امریکی خلائی ایجنسی ناسا کا اگلا ہدف مریخ پر انسانی آبادکاری

امریکی خلائی ایجنسی ناسا کا اگلا ہدف مریخ پر انسانی آبادکاری

امریکی خلائی ایجنسی ناسا کا اگلا ہدف مریخ پر انسانی آبادکاری

نیو یارک ۔۔۔ نیوز ٹائم

تسخیر آفتاب کے بعد تسخیر مریخ امریکی خلائی ایجنسی ناسا کا اگلا ہدف ہے، اس ہدف کا انتخاب خلائی ادارے نے بہت پہلے کر لیا تھا۔ اسی وقت سے اس دیرینہ خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کے لیے مختلف سمتوں میں تحقیقی کام جاری ہے۔ طویل ترین فاصلوں تک خلابازوں کو لے جانے کی صلاحیت کے حامل خلائی جہاز کی تیاری کے علاوہ دوران سفر انسانی ضروریات کی تکمیل ممکن بنانے پر تحقیق کی جا رہی ہے۔  بین الاقوامی خلائی اسٹیشن جانے والے خلانورد ڈبا بند خوراک سے پیٹ کی آگ بجھاتے ہیں۔ چند ماہ قبل ناسا نے خلا میں سبزیاں اگانے کا کامیاب تجربہ کیا تھا۔ اس تجربے کے بعد خلابازوں کو بھی ارضی مدار میں تازہ پھلوں اور سبزیوں کی دستیابی کی امید پیدا ہو گئی تھی۔ اب ناسا کے محققین ایسا نظام تیار کرنے پر کام کر رہے ہیں جو خلا میں طویل ترین سفر کے دوران خلانوردوں کو تازہ پھل اور سبزیاں فراہم کرتا رہے۔ اس منصوبے کا مقصد چاند اور مریخ کے سفر کے دوران خلابازوں کی شکم سیری کے لیے تازہ خوراک کا بندوبست کرنا ہے۔ اس منصوبے کو لونر مارس گرین ہائوس کا نام دیا گیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت آزمائشی طور پر ایک گرین ہائوس تیار کیا گیا ہے جو نمکیات کو ایک حلقے (loop) میں ری سائیکل کرتے ہوئے وہی ماحول پیدا کرتا ہے  جو زمین پر پودوں کی نمو کے لیے درکار ہوتا ہے۔ اس منصوبے پر ناسا کے سائنسدان  University of Arizona کے انجنیئروں اور دوسرے ماہرین کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔ گرین ہائوس کی لمبائی 18 فٹ اور چوڑائی 8 فٹ ہے۔ ڈاکٹر رے وھیلر کے مطابق گرین ہائوس کا ماحول کچھ اس طرح بنایا گیا ہے کہ پودے آکسیجن اور پھل یا سبزیاں فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ کاربن ڈائی آکسائیڈ کو صاف بھی کریں گے۔ یہ وہ کاربن ڈائی آکسائیڈ ہو گی جو خلانورد عمل تنفس کے نتیجے میں خارج کریں گے۔ پودے آکسیجن پیدا کرنے کے لیے ضیائی تالیف (فوٹو سنتھیسس) کا سہارا لیں گے۔ پودوں کو زمین کا پانی فراہم نہیں کیا جائے گا بلکہ ان کے لیے پانی چاند اور مریخ ہی سے حاصل ہو گا۔ چونکہ سائنس دانوں کو قوی امید ہے کہ مستقبل قریب میں چاند اور مریخ پر پانی کے ذخائر دریافت ہو جائیں گے۔گرین ہائوس میں پووں کو پانی اور نمکیات کی فراہمی کے ساتھ پانی اور فاضل مادوں کی ری سائیکلنگ کے بھی انتظامات کیے گئے ہیں۔ یہ پورا نظام سائنسی اصطلاح میں  biogenetics life سپورٹ سسٹم کہلاتا ہے۔ سائنسدان اس سلسلے میں بھی تحقیق کر رہے ہیں کہ چاند یا مریخ پر اس سسٹم سے فائدہ اٹھانے کے لیے کون سے بیج اور پودے لے جائے جائیں۔ ظاہر ہے کہ یہ نظام تمام اقسام کے پودوں کو سپورٹ نہیں کرے گا، کیونکہ  مختلف اقسام کے پودوں کی نشوونما کے لیے جدا جدا ماحول درکار ہوتا ہے۔ سائنسدانوں کو قوی امید ہے کہ گرین ہائوس کی کامیاب آزمائش چاند اور مریخ پر انسانوں کے طویل قیام کی بنیاد بنے گی۔ علاوہ ازیں مستقبل میں اسی طرز پر بنائے گئے وسیع و عریض فارم ہائوس چاند، مریخ اور دوسرے سیاروں پر انسانی آبادکاری میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔

No comments.

Leave a Reply