طالبان سے مذاکرات کیلئے 4 رکنی کمیٹی قائم

طالبان کے ساتھ مذاکرات

طالبان کے ساتھ مذاکرات

اسلام آباد ۔۔۔ نیوز ٹائم

وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے طالبان کے ساتھ مذاکرات کے لیے چار رکنی کمیٹی بنانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ امن عمل کی وہ خود نگرانی کریں گے، نیک نیتی اور خلوص سے سے قدم بڑھایا۔ کمیٹی میں قومی امور پر وزیر اعظم کے معاون خصوصی عرفان صدیقی، انٹیلی جنس بیورو کے سابق افسر میجر محمد عامر، سینئر صحافی رحیم اللہ یوسفزئی اور افغانستان میں سابق پاکستانی سفیر رستم شاہ مہمند شامل ہیں، جبکہ وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان بطور معاون کمیٹی کا ساتھ دیں گے۔ گزشتہ روز قومی اسمبلی میں دہشت گردی اور طالبان کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے پالیسی بیان میں وزیر اعظم نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ ہر صورت جیتنا ہوگی، چاہے اس کے لیے مذاکرات کرنا پڑیں یا جنگ کا راستہ اختیار کرنا پڑے۔ شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کے لیے قوم ان کے ساتھ ہے، لیکن وہ ماضی کے تلخ تجربات کو پس پشت ڈال کر مذاکرات کو آخری موقع دینا چاہتے ہیں۔ امن کی جستجو میں مذاکرات کے لیے 7 ماہ تک لاشیں اٹھاتے رہے ہیں، آگ اور بارود کا یہ کھیل اب بند ہونا چاہیے۔ آپریشن کا فیصلہ کیا تو پوری قوم ساتھ کھڑی ہوگی۔ نواز شریف کا کہنا تھا کہ مذاکرات اور دہشت گردی ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔ ہم اپنی قوم کو دہشت گردوں کے ہاتھوں یرغمال نہیں بننے دیں گے۔ شدت پسندوں کو مذاکرات کی یہ پیشکش خلوص دل اور نیک نیتی سے کررہے ہیں اور اسی طرح کے ردعمل کی توقع بھی رکھتے ہیں۔ مذاکرات کی سابقہ کوششوں میں ناکامی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پوری قوم کی نمائندگی کرتے ہوئے اے پی سی نے حکومت کو یہ اختیار دیا کہ وہ ان لوگوں سے مذاکرات کرے جو ہتھیار اٹھائے ہوئے ہیں۔ ہم نے انہیں مذاکرات کی دعوت دی۔ بدقسمتی سے حکومت کی اس خیر خواہی کا مثبت جواب نہیں ملا۔ شدت پسندوں نے اعلانیہ مذاکرات سے ناصرف یہ کہ انکار کیا، بلکہ مسلسل پاکستانی فوج اور عوام کو اپنا ہدف بنائے رکھا۔ جنرل نیازی اور جوانوں کو شہید کیا گیا، پشاور کے ایک چرچ پر حملہ کیا گیا اور فخر سے ان کی ذمہ داری قبول کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ آر اے بازار، قصہ خوانی بازار، بنوں اور ہنگو میں حملے کیے گئے، پولیو ورکروں کو مارا جارہا ہے، میڈیا پر حملے کیے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس وحشت کو نہ تو اسلام اور نہ ہی دنیا کا کوئی قانون گوارہ کرتا ہے، اس کے باوجود حکومت نے اپنے صبر کا دامن نہیں چھوڑا۔ ہم ان مائوں، بہنوں کا دکھ جانتے ہیں جن کے گھر دہشت گردی سے اجڑے۔ انہوں نے کہا کہ فاٹا میں ڈرون حملوں میں مارے جانے والے بے گناہ افراد اور دہشت گردی کا نشانہ بننے والے معصوم شخص کے لیے میرا دکھ برابر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم ڈرون حملوں کے خلاف ہیں، لیکن اس سے بھی نظریں ہٹا نہیں سکتے جو ان ڈرون حملوں کو جواز بنا کر معصوم لوگوں کو نشانہ بناتے ہیں۔ ڈرون حملے میں مارے جانے والے اور مبشر کی ماں ان کے نزدیک ایک جیسی ہے۔ کیا ڈرون حملے پاکستان کے عوام کررہے ہیں، کیا اسکول جانے والے بچے ذمہ دار تھے، جنہیں مار دیا گیا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ اس صورتحال کو اب مزید برداشت نہیں کرسکتے، ہمارے وجود کو خطرات ہیں، ہم ملک و قوم کو دہشت گردوں کے ہاتھوں یرغمال نہیں بننے دیں گے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ امن کو ہر قیمت پر حاصل کیا جائے گا۔ مجھے یقین ہے کہ قوم ہمارے ساتھ کھڑی ہوگی۔ وزیر اعظم نے کہا کہ اب جب کہ ایک بار پھر مذاکرات کی پیشکش آچکی ہے، ہم ایک موقع اور دیتے ہیں، تاہم دہشت گردی اور مذاکرات ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے۔ اس پر ریاست کے تمام ادارے بھی متفق ہیں، ہم سب کو اس میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ نواز شریف نے اس موقع پر مذاکرات کے لیے 4 رکنی کمیٹی کے قیام کا اعلان کیا، جس میں وزیر اعظم کے معاون خصوصی عرفان صدیقی، میجر ریٹائرڈ محمد عامر، معروف صحافی رحیم اللہ یوسفزئی اور افغانستان میں پاکستان کے سابق سفیر رستم شاہ مہمند شامل ہوں گے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ رستم شاہ مہمند کو KPK کی حکومت نے نامزد کیا ہے۔ وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان اس کمیٹی کی معاونت کریں گے، جبکہ میں خود اس کی نگرانی کروں گا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ایک بات طے ہے کہ دہشت گردی سمیت چند ایک امور پر پوری قوم اور قیادت متفق ہے۔ یہ جنگ ہم نے ہر صورت جیتنی ہے، چاہے مذاکرات سے جیتیں یا جنگ سے۔ تمام پاکستانیوں کو مسائل سے نٹمنے کے لیے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہونا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نیک نیتی اور خلوص سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ اس سلسلے میں حکومت کا ساتھ دیا جائے۔ غلطیوں پر اصلاح اپوزیشن کا فرض ہے۔ وزیر اعظم نے اس موقع پر کھلے دل سے دعوت دی کہ اس اہم مشن میں سب لوگ ہمارے دست و بازو بنیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ جن لوگوں نے دہشت گردی کے خلاف پالیسی پر ہماری حمایت کی، ان کے شکر گزار ہیں اور جنہوں نے اس پر تنقید کی، اس کو بھی ہم نیک نیتی تصور کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملک کو درپیش چیلنجز اور مشکلات کے حوالے سے حکومت کی کوششوں اور نتائج کے بارے میں پھر کسی دن ایوان کو اعتماد میں لوں گا، آج دہشت گردی تک محدود رہیں۔ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے حکومت واضح مؤقف اور نتیجے تک پہنچ چکی ہے۔ جمہوریت مشاورت کا نام ہے۔ دہشت گردی کے مسئلے پر ہم نے تمام فریقین سے مشاورت کی، اے پی سی میں تمام سیاسی جماعتوں سے مشاورت کی، ریاستی اداروں سے بھی اور اہل فکر و دانش سے بھی مشورہ لیتے رہے۔ اس کو سامنے رکھ کر حکومت اس نتیجے پر پہنچی ہے، اس پر قوم اور ایوان کو اعتماد میں لینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مظلوم کی دادرسی ریاست کا بنیادی فرض ہے، اس کی تاکید حجة الوداع میں فرمائی گئی۔ وزیر اعظم نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انسانی جان کی حرمت کو بیت اللہ کی حرمت سے زیادہ قرار دیا، اس سے بڑی کوئی بات نہیں ہوسکتی۔ یہی ہمارا دستور کہتا ہے، حکومت اس فرض سے غافل نہیں ہوسکتی۔

No comments.

Leave a Reply