بھارتی سپریم کورٹ نے بابری مسجدکو مسمار کرنے کا فیصلہ سنا دیا

بابری مسجد 6 دسمبر 1992 ء کو مسمار کی گئی تھی

بابری مسجد 6 دسمبر 1992 ء کو مسمار کی گئی تھی

نئی دہلی ۔۔۔ نیوز ٹائم

سپریم کورٹ نے اِلہ آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ معطل کرتے ہوئے بابری مسجد کیس میں سابق وزیر داخلہ  Lal Krishna Advani سمیت بی جے پی کے رہنمائوں کے خلاف سازش کرنے کے الزامات پر مقدمہ چلانے کا حکم دے دیا۔ بھارتی میڈیا کے مطابق سپریم کورٹ نے الہ آباد ہائی کورٹ کے  Lal Krishna Advani ، Murli Manohar Joshi اور Uma Bharti کے خلاف مسجد گرانے کی سازش کرنے کے الزامات ختم کرنے کا فیصلہ معطل کر دیا۔ الہ آباد ہائی کورٹ نے لال  Lal Krishna Advani ، Murli Manohar Joshi اور Uma Bharti کے خلاف مسجد گرانے کی سازش کرنے کے الزامات ختم کر دیئے تھے، ہائی کورٹ کے فیصلے کو تحقیقاتی ادارے سی بی آئی نے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا، سپریم کورٹ نے سی بی آئی کی درخواست منظور کرتے ہوئے  Lal Krishna Advani ، Murli Manohar Joshi اور Uma Bharti کے خلاف مسجد گرانے کی سازش کرنے کے الزامات کے تحت مقدمہ چلانے کی اجازت دے دی ہے۔ سپریم کورٹ نے حکم دیا ہے کہ اس مقدمے کی کارروائی 2 برس میں مکمل کی جائے، مقدمے کی کارروائی کے دوران التوا کی اجازت نہیں ہو گی اور نہ ہی مقدمے کی سماعت کرنے والے کسی جج کو ٹرانسفر کیا جا سکے گا۔ مقدمے کا سامنا کرنے والوں میں وفاقی وزیر Uma Bharti بھی شامل ہوں گی لیکن Kalyan Singh ، جو بابری مسجد کی مسماری کے وقت اتر پردیش کے وزیر اعلی تھے، اس فیصلے کے دائرے میں نہیں آئیں گے کیونکہ وہ اب راجستھان کے گورنر ہیں اور انھیں عدالتی کارروائی سے استثنیٰ حاصل ہے۔ عدالت نے حکم دیا کہ مقدمے کی سماعت دو سال کے اندر مکمل ہو اور کیس کی کارروائی روزانہ جاری رہے اور کسی بھی بنیاد پر ملتوی نہ کی جائے۔ مسماری سے متعلق دونوں مقدمات کی سماعت اب لکھن میں ہی ہو گی۔ بابری مسجد 6 دسمبر 1992 ء کو مسمار کی گئی تھی اور اس دن Lal Krishna Advani ، Murli Manohar Joshi اور Uma Bharti Ayodhya میں ہی موجود تھے۔ انھیں وہاں جمع ہزاروں ہندو مذہبی عقیدت مندوں کے جذبات بھڑکانے اور مجرمانہ سازش کے الزامات کا سامنا ہے۔ بی جے پی کے رہنمائوں کے لیے یہ ایک بڑا دھچکا ہے اور عدالتی حکم سے بابری مسجد اور رام جنم بھومی کا یہ پرانا تنازع پھر سرخیوں میں آ جائے گا۔ اگرچہ بابری مسجد کی مسماری کو 25 سال گزر چکے ہیں لیکن ابھی اس کیس میں کسی کو بھی سزا نہیں ہوئی ہے۔ سپریم کورٹ نے Kalyan Singh کو بابری مسجد کو کوئی نقصان نہیں پہنچنے دیا جائے گا کا وعدہ پورا نہ کرنے پر ایک دن کی علامتی جیل کی سزا دی تھی۔ ہندوئوں کا ایک حلقے کے خیال میں جس جگہ بابری مسحد تعمیر تھی، وہاں ہزاروں سال پہلے ان کے بھگوان رام پیدا ہوئے تھے اس لیے وہاں ایک عالی شان رام مندر تعمیر کیا جانا چاہیے۔ زمین کی ملکیت کا کیس فی الحال سپریم کورٹ میں ہے اور چیف جسٹس نے گذشتہ ماہ کہا تھا کہ فریقین کو آپس میں مل کر اس تنازع کو حل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

No comments.

Leave a Reply